بھٹکل 29 مئی (ایس او نیوز) سرسی کے قریب سداپور تعلقہ کے کانگوڈ دیہات میں اتوار کو اُس وقت جھڑپ شروع ہوگئی جب مچھلیاں پکڑنے کے سالانہ پروگرام کے دوران جھیل میں مناسب مقدار میں مچھلیاں نہ ملنے سے لوگ بھڑک اُٹھے۔ اس موقع پر لوگوں نے پولس پربھی پتھراو کیا جس سے بعض پولس اہلکار زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
ضلع اُترکنڑا کا سرحدی علاقہ سداپور جو کاروار سے قریب 130 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور بھٹکل سے لگ بھگ 200 کلو میٹر دور ہے، ہر سال یہاں کے کانگوڈ دیہات میں واقع 40 ایکڑ پر پھیلی بڑی جھیل میں مچھلیوں کا شکار کرنے کا میلہ لگتا ہے، گذشتہ دو تین سال تک کووڈ کی وجہ سے یہاں یہ پروگرام نہیں ہوپایا تھا، اس بار دیہات کے ایشور دیوستھان سمیتی کی طرف سے یہاں مچھلیوں کے شکار کا میلہ منعقد کیا گیا تھا۔ جھیل میں داخل ہوکر مچھلیاں پکڑنے کے لئے 600 روپیوں کی ٹوکری دی گئی تھی، بتایا گیا ہے کہ ایک ساتھ پانچ ہزار سے زائد لوگ جھیل میں مچھلیاں پکڑنے کے لئے جمع ہوگئے، مگر جھیل میں لوگوں کو متوقع مقدار میں مچھلیاں نہیں ملیں تو عوام آرگنائزر پر بھڑک اُٹھے اور اپنی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کرنے لگے، لوگوں میں پھیلی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے مندر انتظامیہ کے لوگوں نے وہاں سے کھسکنا بہتر سمجھا۔ جس پر لوگ مزید بھڑک اُٹھےاور عوام بعض ذمہ داران کے گھر بھی پہنچ گئے، پولس نے جب مداخلت کرنے کی کوشش کی تو پولس پر بھی پتھراو کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ جھیل میں مچھلیوں کا شکار کرنے کے لئے سرسی اور سداپور سمیت اطراف کے علاقوں یہاں تک کہ پڑوسی ضلع شموگہ کے ساگر، سورب، شرالکوپاّ وغیرہ سے بھی کثیر تعداد میں لوگ آئے تھے ، مچھلیاں نہ ملنے کی وجہ سے ناراض لوگوں نے پتھراو شروع کردیا تھا۔ پولس پر بھی پتھراو ہونے کی وجہ سے پولس نے ہلکی لاٹھی کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو منتشر کیا۔
بتایا گیا ہے کہ امن و امان کو بحال رکھنے کے مقصد سے جائے وقوع پر اب پولس کی زائد فورس تعینات کی گئی ہے اور حالات پر قابو پالیا گیا ہے۔